سردیاں شروع ہونے کے ساتھ ہی فلو کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔یوں تو سب ہی اس سے متاثر ہوتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کی تحقیق اور مشاہدے کے مطابق مرد حضرات فلوکی علامات میں عورتوں کے مقابلے میں زیادہ پریشان رہتےہیں۔
کینیڈا میں ہوئی ایک تحقیق کے مطابق سانس کی نالی
کی بیماریاں عورتوں کے مقابلے میں مردوں کو زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ فیملی میڈیسن کی پروفیسرڈاکٹر کائل سیوکے مطابق عورتوں اور مردوں میں اعضاء کا فرق ہونے کی بناء پر بھی یہ نزلے اور زکام کی کیفیت پر مختلف رد عمل دیتے ہیں۔
حالیہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مردوں میں عورتوں کے مقابلے میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے خاص طور پر جب بات وائرل انفیکشن کی ہو۔سیوکے مطابق مرد ان کا زیادہ اثر قبول کرتے ہیں ، ان کی علامات شدید ہوتی ہیں اور زیادہ عرصے تک رہتی ہیں ۔ وہ فلو کی وجہ سےاسپتال میں بھی ایڈمٹ ہوجاتے ہیں اور کبھی کبھی یہ ان کہ لئےجان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
یہ جاننے کے لیے مرد اور عورت پر فلو کی علامات کس طرح ظاہر ہوتی ہیں۔ سیو نے جانوروں اور انسانوں پر کئی تحقیقات بھی کی ۔
ایک اور تحقیق کے مطابق عمر رسیدہ افراد کو فلو ہونے کی صورت میں خواتین کے مقابلے ہسپتال میں داخل ہونے کا زیادہ خطرہ رہتاہے۔
امریکہ میں ہوئی ایک تحقیق کے مطابق فلو کی ایک جیسی علامات ظاہر ہونے کے باوجود مردوں کو عورتوں کے مقابلے میں فلو کی وجہ سے موت کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ اسی تحقیق کے مطابق فلو اور سانس کی دوسری بیماریوں میں مردوں کو عورتوں کے مقابلے میں زیادہ پیچیدگیوں کا خطرہ ہوتا ہے۔
مزید تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ مردوں اور عورتوں میں موجود ہارمونز کا فرق دراصل خواتین کی فلو سے حفاظت کرتا ہے ۔ مریضوں پر کی گئی اس تحقیق کے مطابق خواتین کی قوت مدافعت مردوں سے زیادہ کارگر ثابت ہوتی ہے اور یہ مدافعتی نظام فلوکی علامات کی شدت کو کم کرتاہے۔
ایک اور تحقیق کے مطابق خواتین میں مردوں کے مقابلے میں فلو کی ویکسین کا زیادہ رد عمل ہوتا ہے اس کی وجہ مردوں میں ٹیسٹس ٹیرن لیول ہے جو پوری قوت مدافعت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

No comments:
Post a Comment